انقرہ،12مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ترکی نے علاحدگی پسند کرد تنظیم ’کردستان ورکرز پارٹی‘ کی طرف سے ایران کی سرزمین سے حملوں کی روک تھام کے لیے ایران کی سرحد پر کنکریٹ کی دیوار تعمیر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق ایران اور ترکی کی سرحد پر مجوزہ دیوار 70 کلو میٹر طویل ہوگی۔انقرہ نے ایران کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا اعلان صدر ایردوآن کے دورہ امریکا کے بعد سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ترک صدر کو امریکا کی جانب سے شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی کلین چٹ ملنے اور واشنگٹن کو شمالی شام میں سرگرم کرد حمای? الشعب یونٹس کے جنگجوؤں کو اسلحہ کی فراہمی روکنے میں ناکامی کے بعد کیا ہے۔ ترکی امریکا پر زور دے رہا ہے کہ وہ شمالی شاممیں سرگرم کرد جنگجوؤں کو بھاری اسلحہ فراہم نہ کرے۔ترک صدر کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایرانی منافع سے زیادہ ترک مفادات کا دفاع کررہے ہیں۔ایران کے خیال میں سرحد پر کنکریٹ کی دیوار کی تعمیر کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران شمالی عراق اور شام میں جاری آپریشنز میں ترکی پر دباؤ ڈالنے کیلئے کرد جنگجوؤں کو استعمال کررہا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق جب ترک صدر طیب اردگان امریکا کو شام میں کرد جنگجوؤں کو اسلحہ کی فراہمی روکنے پر قائل کرنیمیں ناکام رہے تو انہوں نے ایران کی سرحد کے ساتھ ساتھ دیوار کی تعمیر اور کرد گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی تیز کرنے کا عزم ظاہرکیا ہے۔